برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا

برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا
اب ذہن ميں نہيں ہے پر نام تھا بھلا سا

ابرو کھنچے کھنچے سے آنکھيں جھکی جھکی سی
باتيں رکی رکی سی لہجہ تھکا تھکا سا

الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر ميں تھے
بن جائے جنگلوں ميں جس طرح راستہ سا

خوابوں ميں خواب اُسکے يادوں ميں ياد اُسکی
نيندوں ميں گھل گيا ہو جيسے رَتجگا سا

پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی ميں
وہ ہر طرح سے ليکن اوروں سے تھا جدا سا

اگلی محبتوں نے وہ نا مرادياں ديں
تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا

کچھ يہ کہ مدتوں سے ہم بھی نہيں تھے روئے
کچھ زہر ميں بُجھا تھا احباب کا دلاسا

پھر يوں ہوا کے ساون آنکھوں ميں آ بسے تھے
پھر يوں ہوا کہ جيسے دل بھی تھا آبلہ سا

اب سچ کہيں تو يارو ہم کو خبر نہيں تھی
بن جائے گا قيامت اک واقع ذرا سا

تيور تھے بے رُخی کے انداز دوستی کے
وہ اجنبی تھا ليکن لگتا تھا آشنا سا

ہم دشت تھے کہ دريا ہم زہر تھے کہ امرت
ناحق تھا زعم ہم کو جب وہ نہيں تھا پياسا

ہم نے بھی اُس کو ديکھا کل شام اتفاقا
اپنا بھی حال ہے اب لوگو فراز کا سا

ساری رات کی جاگی آنکھیں کالج میں کیا پڑھتی ہوں گی

ساری رات کی جاگی آنکھیں
کالج میں کیا پڑھتی ہوں گی
لکھتی ہوں گی خط کاغذ پر
ًمیرا ذکر ہی کرتی ہوں گی
دوستوں سے یہ کہتی ہوں گی
آج بہت وہ یاد آئےہیں
اگر وہ ہوتے تو یہ کہتی اُن سے
لکھنا پڑھنا اور یہ سب کچھ
کچھ بھی نہں اچھا لگتا
تم جو میرے پاس نہیں ہو
آ جائو بس آ جائو تم

اضطراب میں ہوں کہ....

وقت نزع ہے، اضطراب میں ہوں کہ جان کس کو دوں غالب
وہ بھی آئے بیٹھے ہیں اور موت بھی آئے بیٹھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محبت ہو جاتی ہے

مجھے اس جگہ سے بھی محبت ہو جاتی ہے غالب
جہاں بیٹھ کر تجھے ایک بار سوچ لیتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوچتا ہوں•

ڈھونڈ رہا ہے وہ مجھے بھول جانے کا طریقہ فراز
سوچتا ہوں خفا ہو کر اس کی مشکل آسان کر دوں

• ایک معصوم سی لڑکی

اک اجنبی شہر کی اجنبی گلی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک کھڑکی کھلی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک پردہ ہٹا ۔۔۔۔۔۔۔

اور۔۔۔۔۔

ایک معصوم سی لڑکی نے اپنی چینچل آواز میں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔

"لالا فراز"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے امرود کی بھاؤ لائے نی

گلے سے مجھے لگا کہ نڈھال رکھتا ہے

گلے سے مجھے لگا کہ نڈھال رکھتا ہے
عجیب شخص ہے کیسا کمال رکھتا ہے
کہا ہے جب سے میں نے میری زندگی تم ہو
تب سے وہ اپنا بہت خیال رکھتا ہے

میں کیسے کہہ دوں مجھے چھوڑ دیا ہے اُس نے

کُو بکُو پھیل گئی بات شناسائی کی
اُس نے خوشبو کی طرح میری پزیرائی کی

اُس نے جلتی ہوئی پیشانی پر جب لب رکھے
روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی

میں کیسے کہہ دوں مجھے چھوڑ دیا ہے اُس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

میری چُپ نے اُسے رُلا دیا

جسے اپنے فردا کی فکر تھی وہ جو میرا واقف حال تھا
وہ جس کی صبح عروج تھی وہی میرا زوال تھا

میرا درد کیسے وہ جانتا میری بات کیسے وہ مانتا
وہ خود فنا کے سفر میں تھا اُسے روکنا محال تھا

وہ صدیوں بعد ملا بھی تو میرے لب پہ کوئی گلہ نہ تھا
میری چُپ نے اُسے رُلا دیا جسے گفتگو میں کمال تھا

جنت کی تلاش

میں برسوں سے جنت کی تلاش میںنکلا ہوا تھا عاجز
لیکن تھک کہ آج پھر ماں کے قدموں میں آ گرا