یہ مٹی کے پتلے کسی سے وفا نہیں کرتے ۔


حسین یادوں کے کچھ موسم اسے ارسال کرنے ہیں

سنا ہے شب کو تنہائی اسے سونے نہیں دیتی ۔
۔
آج اداس ہوں تو کسی نے بھی آواز نہیں دی محسن
یہ مٹی کے پتلے کسی سے وفا نہیں کرتے ۔
۔
عجیب اندھیرا ہے ساقی تیری محفل میں
کسی نے دل بھی جلایا تو روشنی نہ ہوئی۔
۔
لوگ میری دیوانگی کو فقیری سمجھتے رہے فراز
میں تو اسے دیکھنے کی خاطر بھیک مانگتا رہا ۔
۔
ہم سے بچھڑکے اس کا تکبر بکھر گیا محسن
ہر اک سے مل رہا ہے بڑی عاجزی کے ساتھ

No response to “یہ مٹی کے پتلے کسی سے وفا نہیں کرتے ۔”

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


Flag counter

free counters