تجارت

میں فقیروں سے بھی کرتا ہوں تجارت اکثر
جو ایک روپے میں لاکھوں کی دعا دیتے ہیں

پولیس کے چھتر

پولیس کے چھتر کھانے سے کوئی مر تو نہیں جاتا " فراز "
بس پیدل چلنے کے انداز بدل جاتے ہیں

ڈھونڈ رہا ہے وہ

ڈھونڈ رہا ہے وہ ہم سے روٹھ جانے کے جواز
سوچتے ہیں خفا ہو کر اسکی مشکل آسان کر دیں

واجد علی - کوٹ جٹاں

وہ ظالم ایسا ہے کہ

ہزاروں کام ایسے ہیں مجھے یاد رکھنے کو
مگر وہ ظالم ایسا ہے کہ پھر بھی یاد آتا ہے

کیا فائدہ

اس کو آنا ہو گا تو خود ہی چلی آئے گی "فراز"
یوں بیٹھ کر باتھ روم میں زور لگانے سے کیا فائدہ

تم کون ہوتے ہو

وہ صبح نیند سے جاگے تو ہم سے لڑنے آئے
تم کون ہوتے ہو میرے خوابوں میں آنے والے

تو کیا جانے پگلی کوئل

تُو کیا جانے پگلی کوئل

کون مجھے تڑپاتا ہے


جاگی سوئی آنکھوں والا


دل مین اُترتا جاتا ہے


کتنے کومل کومل چہرے


میری راہ میں آئے ہیں


لیکن وہ اک سُندر چہرہ


سپنوں میں آ جاتا ہے


اس کا درد چھپا کر دل میں


غزلیں لکھتا رہتا ہوں


ہر موسم کی پہلی بارش


اس کی یاد دلاتی ہے


باد صبا کا ہر اک جھونکا


اس کی یاد دلاتا ہے


تو کیا جانے پگلی کوئل


کون مجھے تڑپاتا ہے.

وفاوؤں کا تزکرہ

وہ محفل میں کر رہے تھے اپنی وفاوؤں کا تزکرہ "فراز"
ہم پر نظر پڑی تو موضوع ہی بدل ڈالا

ماہ ربیع الاول مبارک

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

دنیا کی ہر فضا میں ہے اجالا رسول کا

یہ ساری کائنات ہے صدقہ رسول کا
خوشبوئے گلاب ہے پسینہ رسول کا
آپ سب کو ہو مبارک مہینہ رسول کا

جٹاں دی اسٹوری انگریجی زبان میں

Once there was a jutt,
he was cutting jawwaar with datri,
He saw a wadda sara sup,
He began to cry,
"Bachao Bachao, I am marring"
then his father take a sotta and kill the sup, When they went his Qareeb, they saw that was not a sup that was a kala rassa.
Moral:All jutt are aqloon chatt.

Note:جٹ برادری سے معزرت

نا جاؤ چھوڑ کے اس طرح

ابھی نا جاؤ چھوڑ کے اس طرح ہماری محفل کو "فراز"
تھوڑی ہی دیر بعد یہاں چاول تقسیم ہونے والے ہیں

میرے وطن کی کرکٹ ٹیم

محسوس ہو رہی فضا میں ٹماٹر اور انڈوں کی خوشبو "فراز"
لگتا ہے میرے وطن کی کرکٹ ٹیم واپس آنے والی ہے

جیو آفریدی بھُوم بُھوم

ہم نے تُم کو کپتان بنایا تھا سمجھدار سمجھ کر
تم تو گیند کو کھا گئے نسوار سمجھ کر

بولی سی صورت آنکھوں میں مستی

چائے والا ایک لڑکی سے:
"بولی سی صورت آنکھوں میں مستی
دُور کھڑی شرمائے آئے ہائے"

لڑکی جواب میں بولی:
"کالی سی صُورت ، ہاتھوں میں چینک
دُور کھڑا چلائے ، چائے چائے"

عرض کیا ہے

"خودی کو کر نالائق اتنا کہ کتاب کھولنے سے پہلے
اُس کا پیج تُجھ سے خود پُوچھے پُتر طبیعت تے ٹھیک ای نا

وہ زور سے چلائی

وہ تنہا اندھیرے میں بیٹھی ،
گھنٹوں انتظار کرتی تھی اُس کا،
دل سے صبح شام یاد کرتی تھی اُس کو،
بُھولے سے بھی بھلا نہین پاتی تھی اُس کو،
پھر امید کی اک کرن نظر آئی ،
اندھیرے میں روشنی نظر آئی اور وہ زور سے چلائی
"بجلی آئی" "بجلی آئی


کی بم دا بھروسہ یار

کی بم دا بھروسہ یار

بم کدھروں دی آوے

چھڈ مُلک تے چلئیے باہر

ہو و و و و و و

چھڈ مُلک تے چلئیے باہر

کم آوے نہ آوے

کی بم دا بھروسہ یار ..........

پریم کہانی

دادا اور دادی نے اپنی جوانی کے دن پھر سے یاد کر کے منانے کا سوچا۔۔۔۔۔۔۔۔
اُنھوں نے فیصلہ کیا کہ ہم پھر دریا کنارے ملیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادا جلدی اُٹھ کر۔۔۔۔۔۔
تیار ہو کر۔۔۔۔۔۔۔
گلاب کا پُھول ہاتھ میں لیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دریا کے کنارے پہنچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت دیر ہو گئی دادی نہیں آئی۔۔۔۔۔۔۔۔
دادا جان غصے میں گھر آگئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پُھول پھینکتے ہوئے بولے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تُم کیوں نہیں آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی شرماتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


امی نے جانے نہیں دیا


پیار بھرا خط اورعید مبارک

از طرف: لالے کی جان
23 نومبر 2009
میں خیریت سے ہوں امید کرتا ہوں کہ آپ سب لوگ بھی خیریت سے ہوں گے کافی دن ہوگئے آپ لوگوں کو خط نہیں لکھ سکا اسلئے سوچا پُرانی یادیں تازہ کر لی جایئں دیگر صورت احوال کچھ یوں ہے کہ اس دفعہ میں عید آپ لوگوں کے ساتھ نہیں منا سکوں گا کیونکہ مُلکی حالات کچھ ٹھیک نہیں ہیں جس کی وجہ سے مجھے چھُٹی نہیں مل رہی ۔ اس کےلیے میں معزرت چاہتا ہوں میری طرف سےتمام اہل وطن کو،آپ کے سب گھر والوں کو، آپ کے نان کوں، داد کوں کو، سارے وڈ وڈیروں کو، آپ کے عزیزوں رشتے داروں کو ، ہر نکے وڈے کو، ہر چھوٹے موٹے کو، سب کاکے کاکیؤں کو، سب گوانڈیوں کو، سب چاچے پھوپھیوں کو، داد پوترے داد پوتریوں کو، سب ملیروں پھپیروں کو، سب ماسیوں مصیروں کو، آپ کی مج بھینس کٹے کٹیوں کو، وچھے وچھیوں کو، آپ کے کُکڑ کُکڑیوں کو، آپ کے چُوچے چُوچیوں کو، اور سب پڑھنے سُننے والے والیؤں کو ایڈوانس میں بکرا عید مبارک
اگر کوئی رہ گیا ہو تو معزرت چاہتا ہوں۔
والسلام

بُڑھیا پٹاخہ۔۔۔۔

ایک بچے نے بڑھیا کے پاس پٹاخہ رکھ دیا۔۔۔۔۔۔۔

لوگ چلائے۔۔۔۔۔

بُڑھیا پٹاخہ ہے۔۔۔۔

بُڑھیا پٹاخہ ہے۔۔۔۔

بُڑھیا پٹاخہ۔۔۔۔

بُڑھیا شرما کے بولی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پٹاخہ تو میں جوانی میں تھی ۔

Flag counter

free counters