Showing posts with label بابر کی تخلیق. Show all posts
Showing posts with label بابر کی تخلیق. Show all posts

واجد علی بابر کی تخلیق


اب تو یہ حالت ہے کہ تنہائی سے تنگ آ کر بابر
اپنے دوستوں کو تنگ کرتا رہتا ہوں
۔
اگر مجھ سے بچھڑنے کا غم نہیں ہے تجھے بابر
تو پھر چھٹی لے کہ آ جا بالما ہووووووووووووو
۔
میری دستک کو وہ اکثر نظر انداز کر دیا کرتا تھا بابر
نہ جانے اب وہ کس کے انتظار میں دروازے کے قریب رہتا ہے
۔
عجب ہے میرے دوستوں کی طبیعت بابر
11 بجے اُٹھ کے کہتے ہیں Good Morning

ان پھولوں کے کھلنے سے پہلے اس آشیاں میں کہاں رونق تھی
اب تو کئی رنگ کی تتلیاں دیکھی ہیں میں نے یہاں

آؤ بچپن کو لوٹ چلیں


بہت سہانی تھیں وہ یادیں

پرانی ہو گئیں اب وہ باتیں

کہا تھا میں نے ہم نہ ملیں گے کبھی

تمھیں یاد نہ کریں گے کبھی

چھوڑ کر تمھیں جا رہا ہوں میں

بس ایسے ہی تمھیں ستا رہا ہوں میں

جب پوچھا کیا دیکھا تم نے مجھ پاگل میں

چھپا لیا تھا چہرہ تم نے آنچل میں

کیا گزری تھی اُس گھڑی تم پر

آفت سی تھی ٹوٹ پڑی تم پر

نکلے تھے تم میری تلاش میں رات کو

بھول نہ پاؤں گا اُن لمحات کو

بیٹھ کر تم نے اُسی ویران گلی میں

کچھ لکھا تھا اُس سنسان گلی میں

میں تمھیں مل نہ سکا تو تم رو دیئے

کسی خوابوں خیالوں میں کھو دیئے

جب آہٹ سنی میرے قدموں کی

سر سے گٹھڑی گر پڑی صدموں کی

جھلملا رہے تھے آنسو آنکھوں پہ

تھرتھراہٹ سی تھی ہونٹوں پہ

سہم گئے تھے تم میری بانہوں میں

اک درد سا تھا تیری آہوں میں

میری خطاؤں کو بھلا کر پیار کیا

کبھی نہ جدا ہونے کا اقرار کیا

آنسو نکلے تھے تمھارے بے بہا

گلے سے لپٹ کر ہمیں یوں کہا

بے رخی سے دنیا کو روک چلیں

وفاوؤں کا پیدا کر شوق چلیں

بابر جی اٹھو جٹاں دے کوٹ چلیں

آؤ بچپن کو لوٹ چلیں

own poetry; 03455260753

Flag counter

free counters