Showing posts with label مزاحیہ شاعری. Show all posts
Showing posts with label مزاحیہ شاعری. Show all posts

پولیس کے چھتر

پولیس کے چھتر کھانے سے کوئی مر تو نہیں جاتا " فراز "
بس پیدل چلنے کے انداز بدل جاتے ہیں

کیا فائدہ

اس کو آنا ہو گا تو خود ہی چلی آئے گی "فراز"
یوں بیٹھ کر باتھ روم میں زور لگانے سے کیا فائدہ

نا جاؤ چھوڑ کے اس طرح

ابھی نا جاؤ چھوڑ کے اس طرح ہماری محفل کو "فراز"
تھوڑی ہی دیر بعد یہاں چاول تقسیم ہونے والے ہیں

بولی سی صورت آنکھوں میں مستی

چائے والا ایک لڑکی سے:
"بولی سی صورت آنکھوں میں مستی
دُور کھڑی شرمائے آئے ہائے"

لڑکی جواب میں بولی:
"کالی سی صُورت ، ہاتھوں میں چینک
دُور کھڑا چلائے ، چائے چائے"

عرض کیا ہے

"خودی کو کر نالائق اتنا کہ کتاب کھولنے سے پہلے
اُس کا پیج تُجھ سے خود پُوچھے پُتر طبیعت تے ٹھیک ای نا

کی بم دا بھروسہ یار

کی بم دا بھروسہ یار

بم کدھروں دی آوے

چھڈ مُلک تے چلئیے باہر

ہو و و و و و و

چھڈ مُلک تے چلئیے باہر

کم آوے نہ آوے

کی بم دا بھروسہ یار ..........

وہ مجھ سے کہہ گئی



اُس کے قدم جہاں پڑے ہم نے جگہ وہ چُوم لی فراز
اور وہ مجھ سے کہہ گئی تم اس عمر میں بھی مٹی کھاتے ہو

انتخاب: لالے کی جان

سب کہہ دو


کر دیا اظہارعشق ہم نے موبائل پرنواز

لاکھ روپے کی بات تھی بارہ آنے میں ہو گئ

"زونگ سب کہہ دو
"

ہماری دوستی ٹیلی نار جیسی نہیں

ہماری دوستی ٹیلی نار جیسی نہیں کہ بس
"Talk-shawk"

موبی لنک جیسی بھی نہیں کہ
"Aur-sunao"

وارد جیسی بھی نہیں کہ بس
"Life-ka-Network"

زونگ جیسی بھی نہیں کہ بس
"sab-keh-do"

PTCL
جیسی بھی نہیں کہ بس
"Feel-the-difference"

یہ تو
Ufone
جیسی ہے کیوں کہ
"Tum-hi-to"
ھو
انتخاب: لالے کی جان

تیری صورت میرے دل میں کچھ اس طرح سے بس گئی ہے نواز

تیری صورت میرے دل میں کچھ اس طرح سے بس گئی ہے نواز
جیسے چھوٹے سے رکشے میں موٹی آنٹی پھس گئی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
یہ کہہ کر اس نے تمھیں بھری محفل میں رسوا کر دیا نواز
اٹھوء چبلا اے پھوسی توں ماری اے نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
کل رات ایک کتا بھونک رہا تھا نواز
وائو وائو وائو وائو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں بالکل ایسے ہی

یوں راتوں کو نہ جاگو سو لیا کرو
یوں دل میں آنسو نہ روکو رو لیا کرو
بال تو بہت اچھے بناتے ہو نواز
کبھی منہ بھی دھو لیا کرو۔۔۔۔۔۔

اب تو پانی میں بھی اُس کا عکس دیکھتے ہیں
پھر کنکر مارتے ہیں تو اُس کا رقص دیکھتے ہیں

ماہی ماہی مینوں چھلا پوا دے

میں تو پھولوں والی رضاٰٰٰ یی لے کر سو رہا تھا فراز
کمبخت کو یی رات کو پھولوں کو پا نی دے گیا

میں تو اپنے دوست کو کچھ نہ کہہ سکا فراز
مگر تم زونگ لو اور سب کہہ دو

اسکی یاد مٰیں کھانا پینا چھوڑ دیا فراز
پھر سوچا کھاؤں گا نہیں تو بڑا کیسے ہوں گا

اسے کہا بھی تھا میں گولڈ سمتھ نہیں ہوں فراز
اب کہتی ہے ‘‘ماہی ماہی مینوں چھلا پوا دے

اس نے کہا تھا کے 5 بجے ملنے کے لیے آؤں گی فراز
مگر یہ تو بتا یا نہیں کے نیا ٹاٰ یم یا پرانا

واپڈا والوں سے ہمیں اتنی محبت ہے فراز
کہ وہ روٹھ جا ییں تو ہمیں نیند نہیں آتی

ایک پٹھان کی شاعری
کھڑکی سے دیکھا تو گلی میں کویی نہیں تھا
واہ

واہ
کھڑکی سے دیکھا تو گلی میں کویی نہیں تھا
اور
گلی میں جا کے دیکھا تو کھڑکی میں کویی نہیں تھا۔۔
‘‘


احمد فراز سے معزرت کے ساتھ

میری آنکھیں آج بھی اسے تلاش کرتی ہیں فراز
جس نے مسجد سے میری چپل چرائی تھی

وہ مجھ سے میرے پیار کا حساب چاہتا ہے فراز
جس کی خود میٹرک میں حساب کی سپلی تھی

وہ مجھے دیکھ کر ہنستی رہی فراز
میرا وی فیر ہاسہ نکل گیا

اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے فراز
کوئی واش روم کے لوٹے میں مرچیں ڈال گیا

Flag counter

free counters