Showing posts with label متفرق اشعار. Show all posts
Showing posts with label متفرق اشعار. Show all posts

تجارت

میں فقیروں سے بھی کرتا ہوں تجارت اکثر
جو ایک روپے میں لاکھوں کی دعا دیتے ہیں

وفاوؤں کا تزکرہ

وہ محفل میں کر رہے تھے اپنی وفاوؤں کا تزکرہ "فراز"
ہم پر نظر پڑی تو موضوع ہی بدل ڈالا

گلے سے مجھے لگا کہ نڈھال رکھتا ہے

گلے سے مجھے لگا کہ نڈھال رکھتا ہے
عجیب شخص ہے کیسا کمال رکھتا ہے
کہا ہے جب سے میں نے میری زندگی تم ہو
تب سے وہ اپنا بہت خیال رکھتا ہے

اُسے صدیوں سے کسی بہانے کی تلاش تھی

اُسے نفرت تھی مجھ سے میری محفل سے وہ اُٹھ کہ چلا گیا
شاید اُس کو بھی معلوم تھا ہم نطروں سے اپنا بنا لیتے ہیں ۔
><><<>
اُس نے ہمارے زخموں کا یوں علاج کیا فراز
مرہم بھی لگایا تو کانٹوں کی نوک سے ۔
<><><>
وہ شخص تو ایک چھوٹی سی بات یوں روٹھ کہ چل دیا ناصر
جیسے اُسے صدیوں سے کسی بہانے کی تلاش تھی ۔
<><><>
آج تو اُس کی یاد میں ایسے کھوئے فراز جیسے
کسی تنہا کشتی کو سمندر میں شام ہو جائے ۔
<><><>
تُم تعلق توڑنے کا کہیں ذکر نہ کرنا فراز
میں لوگوں سے کہہ دوں گا کہ اُسے فرصت نہیں ملتی ۔

میں دل پہ ہاتھ نہ رکھتا تو دل نکل جاتا


وقت رخصت اُس نے مُڑ کر اس طرح دیکھا فراز
میں دل پہ ہاتھ نہ رکھتا تو دل نکل جاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔
<><><>
بس یہی عادت اُس کی مجھے اچھی لگتی ہے فراز
اُداس کر کے مجھے خود بھی وہ خوش نہیں رہتا
<><><>
اتنے خود دار تھے ہم کہ کبھی گھر سے نہ نکلتے تھے غالب
تیرے اک زوق دیدار نے مجھے آوارہ بنا دیا ۔۔۔۔۔۔

یہ مٹی کے پتلے کسی سے وفا نہیں کرتے ۔


حسین یادوں کے کچھ موسم اسے ارسال کرنے ہیں

سنا ہے شب کو تنہائی اسے سونے نہیں دیتی ۔
۔
آج اداس ہوں تو کسی نے بھی آواز نہیں دی محسن
یہ مٹی کے پتلے کسی سے وفا نہیں کرتے ۔
۔
عجیب اندھیرا ہے ساقی تیری محفل میں
کسی نے دل بھی جلایا تو روشنی نہ ہوئی۔
۔
لوگ میری دیوانگی کو فقیری سمجھتے رہے فراز
میں تو اسے دیکھنے کی خاطر بھیک مانگتا رہا ۔
۔
ہم سے بچھڑکے اس کا تکبر بکھر گیا محسن
ہر اک سے مل رہا ہے بڑی عاجزی کے ساتھ

تم اگر چاہو تو میری سوچوں کی تلاشی لے لو ۔

میں نے احساس کے دھاگے میں پرویا ہے اسے
ٹوٹ اگر میں گیا تو بکھر وہ بھی جائے گا ۔
<><><>
ہمیں بھی یاد رکھنا جب تاریخ وفا لکھو ساغر
کہ ہم نے بھی لٹایا ہے چمن مں آشیاں اپنا ۔
<><><>
مجھے اتنا نہ یاد آؤ کہ میں خود کو تم سمجھ بیٹھوں
مجھے احساس رہنے دو میری اپنی بھی ہستی ہے ۔
<><><>
دل کی دنیا کچھ اس طرح سے اجڑی ہے ہماری آتش
اس نے درد کا عادی بنا کے درد دینا چھوڑ دیا ۔
<><><>
ہر جرم میری ہی زات سے منسوب ہوا ہے فراز
کیا میرے سوا شہر میں معصوم ہیں سارے ۔
<><><>
مجھ میں بے لوث محبت کے سوا کچھ بھی نہں محسن
تم اگر چاہو تو میری سوچوں کی تلاشی لے لو ۔

اب تو کلیوں کے تبسم سے بھی ڈر جاتا ہوں فراز

اے قبرستان تیری آغوش میں اتنا سناٹا کیوں ہے
لوگ تو اپنی جان دے کر تجھے آباد کرتے ہیں
۔
کتنی عجیب ہے نیکیوں کی جستجو غالب
نماز بھی جلدی میں پڑھتے ہیں پھر سے گناہ کرنے کے لیے
۔
خزاؤں میں ہوتا ہے امتحاں وفاؤں کا محسن
جو ہوں شجر کو پیارے وہ پتے نہں گرتے
۔
مجھے چھوڑنے کا فیصلہ تو روز کرتا ہے وہ شخص
مگر اُس کا بس نہیں چلتا میری وفا کے سامنے
۔
اب تو کلیوں کے تبسم سے بھی ڈر جاتا ہوں فراز
مسکرا کر جو بھی ملا وہ زخم گہرا دے گیا۔۔۔۔۔
۔
ہماری ا پیاس کا انداز بھی الگ ہے فراز
کبھی دریاوؤں کو ٹھکراتے ہیں تو کبھی آنسو تک پی جاتے ہیں

سنا ہے اس کے دیدار کو آئینے ترستے ہیں

کیا برا ہے کہ میں اقرار محبت کر لوں فراز
لوگ ویسے بھی تو کہتے ہیں گنہگار مجھے
۔
عجیب طرز سے گزری ہے زندگی اپنی فراز
دلوں پر راج کیا پھر بھی محبت کو ترستے رہے
۔
تم سے اگر کوئی پوچھ لے کہ میری اوقات کیا ہے
ہتھیلی پہ خاک رکھ کر پھونک مار دینا
۔
اب تو یہ حالت ہے کہ تنہائی سے تنگ آ کر فراز
خود ہی دروازے کی زنجیر ہلا دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔
sender:03455260753
۔
ہماری تڑپ تو کچھ بھی نہیں فراز
سنا ہے اس کے دیدار کو آئینے ترستے ہیں
۔
نہ دیکھ آسماں کو اتنی حسرت سے فراز
وہ ستارہ ٹوٹ گیا جس کی تجھے تلاش تھی
۔
اگر مجھ سے بچھڑنے کا نہیں ہے غم اسے محسن
تو پھر خاموش راتوں میں وہ اکثر جاگتا کیوں ہے
۔
ہجر کے ساحل پہ کس کے منتظر بیٹھے ہو تم وصی
اس سمندر سے بھلا کب لوٹی ہیں کشتیاں
۔
مجھے چھوڑنے کا فیصلہ تو روز کرتا ہے وہ شخص
مگر اس کا بس نہیں چلتا میری وفا کے سامنے

ہم سچ ہی مان لیں گے کر دو کوئی بہانا

وہ پرندہ جسے اپنی پرواز سے فرصت نہ تھی فراز
آج تنہا ہوا تو میری ہی دیوار پہ آ بیٹھا
۔
غم سنانے کے لئے کس کس کا ہاتھ تھامتا پھروں فراز
لوگوں کو اپنی خوشیوں سے فرصت نہیں ملتی
۔
وعدہ خلافیوں پر کیوں اس قدر ہو نادم
ہم سچ ہی مان لیں گے کر دو کوئی بہانا
۔
محبت میں ہم نے کیا کچھ نہیں لٹا دیا فراز
انہیں پسند تھی روشنی اور ہم نے خود کو جلا دیا
۔
ہم نے صلے کی تمنا ہی کب کی تھی فراز
ہم تو چراغ ہیں جو جل جاتے ہین اوروں ک لئے
۔
آج اس کے تصور کا عالم کچھ اس طرح تھا فراز
کہ نیند آئی تو آنکھوں نے برا مان لیا۔۔۔۔۔۔۔۔

وسیم آکاش آف راولپنڈی کی تخلیق


کافی دور تک ہم نے وہ گلشن بہت ڈھونڈا آکاش
جس کے پھول ہمارے شہر میں اکثر نیلام ہوتے ہیں

میری پسند 10 اپریل 2009

چاندنی رات میں اور بھی شدت سے آئے گی اس کی یاد
بہتر ہے فراز سو جانا شام سے پہلے
۔
اب تو یہ حالت ہے کہ تنہائی سے تنگ آ کر فراز
خود ہی دروازے کی زنجیر ہلا دیتے ہیں
۔
تاش کے پتوں کی مانند ہے زندگی میری
جس کسی نے بھی کھیلا تقسیم کر دیا
۔
برہم ہی سہی کچھ بولا تو کرو
چپ رہتے ہو تو محبت کا گمان ہوتا ہے
۔
اک دن یہ عادت بھی تجھے رلائے گی فراز
تو جو پرکھتا ہے ہر کسی کو اپنا بنا کر

جنید احمد (عرف چندا) آف راولپنڈی کی پسند

روز ڈھلتا ہوا سورج یہ کہتا ہے مجھے فراز
آج اس کو بے وفا ہوئے ایک اور دن ہوا
۔
میرے لفظوں کی پہچان اگر وہ کر لیتا غالب
اسے مجھ سے نہیں خود سے ہی محبت ہو جاتی
۔
ہجر کے ساحل پہ کس کے منتظر بیٹھے ہو وصی
اس سمندر سے بھلا کب لوٹی ہیں کشتیاں۔
۔
شاید کے تو کبھی پیاسا میری سمت لوٹ آئے
آنکھوں میں لئے پھرتا ہوں دریا تیری خاطر

ساجد ستار ملتان کی پسند

اتنی سی بات پر دل رک گیا فراز
ابھی تصور ہی کیا تھا اس کے بغیر جینے کا

میرے معیار کو سمجھنے کے لئےبس اتنا ہی کافی ہے فراز
میں اس کا ہر گز نہیں ہوتا جو ہر کسی کا ہو جاے

جو کچھ میں کہہ نہیں سکتا اسے میں فرز کرتا ہوں
چلو میں فرز کرتا ہوں مجھے تم سے محبت ہے

متفرق اشعار

پلکوں کا بند توڑ کر دامن پہ آ گرا
ایک آنسو میرے صبر کی توہین کر گیا

یہ سوچ کر کہ شاید وہ کھڑکی سے جھانک لے
گلی میں کیھلتے بچے لڑا دیے میں نے

ابھی میرے کفن کے بند نہ باندھو جناب
مجھے ملنا ہے ایک شحص سے بانہیں نکال کر


یوں تو تمھیں سفید رنگ بہت پسند تھا فراز
اب کفن میں لپٹا ہوں تو روتے کیوں ہو

بعد مرنے کے بھی اس نے دل جلانا نہ چھوڑا فراز
روز پھینک جاتا ہے پھول ساتھ والی قبر پر

ایک دن یہ عادت بھی تجھے رلائے گی فراز
تو جو پرکھتا ہے ہر کسی کو اپنا بنا کر



اگر وہ ہم سے پوچھ لے کہ تمہیں کیا غم ہے
تو پھر کیا غم ہے اگر وہ ہم سے پوچھ لے


واپسی کا سفر ناممکن ہے فراز
ہم تو نکلے ہیں آنکھ سے آنسو کی طرح

کانچ کی طرح کے دل ہوتے ہیں ہم غریبوں کے فراز
کبھی ٹوٹ جاتے ہیں تو کبھی توڑ دئے جاتے ہیں

وہ میری قبر پر آیا اور کھل کر رو نہ سکا
کتنا خیال تھا اس کو میرے سکون کا

کون کس کے ساتھ کتنا مخلص ہے فراز
وقت ہر شخص کی اوقات بتا دیتا ہے

مدتوں بعد ملا تو میرا نام پوچھنے لگا
بچھڑتے وقت جس نے کہا تھا تم بہت یاد آؤ گے

بیٹھا ہوں اگر میخانے میں تو مجھ کو شرابی نہ سمجھو ساقی
ہر وہ شخص جو مسجد سے نکلے نمازی نہیں ہوتا

شکایتیں بھی تھیں اسے تو صرف میرے خلوص سے فراز
عجب تھا وہ شخص میری عادتیں نہ سمجھ سکا

ہماری تو وفا بھی تمھیں گوارہ نہیں فراز
کسی بے وفا سے نبھاؤ گے تو بہت یاد آئیں گے

کون تولے گا اب ہیروں میں تمہارے آنسو
وہ جو اک درد کا تاجر تھا دوکان چھوڑ گیا

اُس کے بعد نہ آئے گا میری زندگی میں کوئی اور
اک موت ہے جس کی ہم قسم نہیں دیتے

Flag counter

free counters