کُو بکُو پھیل گئی بات شناسائی کی
اُس نے خوشبو کی طرح میری پزیرائی کی
اُس نے جلتی ہوئی پیشانی پر جب لب رکھے
روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی
میں کیسے کہہ دوں مجھے چھوڑ دیا ہے اُس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
اُس نے خوشبو کی طرح میری پزیرائی کی
اُس نے جلتی ہوئی پیشانی پر جب لب رکھے
روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی
میں کیسے کہہ دوں مجھے چھوڑ دیا ہے اُس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی