Showing posts with label پروین شاکر. Show all posts
Showing posts with label پروین شاکر. Show all posts

میں کیسے کہہ دوں مجھے چھوڑ دیا ہے اُس نے

کُو بکُو پھیل گئی بات شناسائی کی
اُس نے خوشبو کی طرح میری پزیرائی کی

اُس نے جلتی ہوئی پیشانی پر جب لب رکھے
روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی

میں کیسے کہہ دوں مجھے چھوڑ دیا ہے اُس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

میری چُپ نے اُسے رُلا دیا

جسے اپنے فردا کی فکر تھی وہ جو میرا واقف حال تھا
وہ جس کی صبح عروج تھی وہی میرا زوال تھا

میرا درد کیسے وہ جانتا میری بات کیسے وہ مانتا
وہ خود فنا کے سفر میں تھا اُسے روکنا محال تھا

وہ صدیوں بعد ملا بھی تو میرے لب پہ کوئی گلہ نہ تھا
میری چُپ نے اُسے رُلا دیا جسے گفتگو میں کمال تھا

Flag counter

free counters